اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیتاللہ ہاشمی رفسنجانی نے کل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مصر، بحرین اور یمن ـ جو ایک حساس جغرافیائی علاقے میں واقع ہیں ـ نیز لیبیا جیسے ممالک میں اسلامی بیداری کے خد و خال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ان ممالک میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے یورپ کو تیل کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذا ہوسکتا ہے کہ نیٹو کا فوجی اتحاد ان ممالک میں مداخلت کرنا چاہیں جس کے لئے زیادہ کیاست اور فعال سفارتکاری کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا: ممکن نے ان گروپوں اور افراد کے باقیات اب بھی ملک میں موجود ہیں جو ابتداء سے انقلاب اور ولایت کے مخالف تھے اس نظام کے خاتمے کے لئے کودتا کے لئے کوشاں رہے، دشمن کے لئے جاسوسی کرتے رہے، دہشت گردی کا دامن تھامے رہے اور نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے، آج بھی ان ہی ہتھکنڈوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور ایسے معاند افراد اور ٹولوں کے سامنے ـ جن کے مٹھی بھر پیروکار ممکن ہے آج بھی تند و تلخ موقف اپنائیں یا نعرے لگائیں اور نظام اسلامی کو کمزور کرنا چاہیں اور 14 فروری کو تہران میں اس قسم کے اقدامات کا اظہار کیا گیا ـ ہماری ذمہ داری بالکل واضح ہے۔
انھوں نے کہا کہ معاشرے کی اکثریت انقلاب اور نظام اسلامی کے وفادار ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ انقلاب کے وفاداروں کو متحد رکھیں اور انقلاب اسلامی کی کامیابی سے اب تک اسلام اور مکتب اہل بیت (ع) ہی ہمارے معاشرے کے اتحاد کا معیار و محور ہے جس کی بدولت ہمیں بہت بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
انھوں نے عوام کو قیام پر آمادہ کرنے اور انقلاب اسلامی کی کامیابی میں امام خمینی رحمةاللہ علیہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ابتداء میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ ملک میں کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں ہے اسی وجہ سے ہماری جدوجہد ناکام ہوجائے گی لیکن ہم نے دیکھا کہ علماء کا ادارہ نہایت فعال اور منظم انداز میں ملکی انتظام و انصرام سنبھالنے کے لئے ایک جماعت سے کہیں زیادہ کامل و مؤثر شکل میں سامنے آیا پورے ملک کی مساجد میں اپنی عوامی مقبولیت کے ذریعے ـ سیاسی جماعتوں کے منفی اثرات سے بچتے ہوئے ـ عوام کی مدد سے بہترین انداز میں جدوجہد کی اور ہم مراجع تقلید کے ترقی پسندانہ اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق فتاوای اور مکتب اہل بیت (ع) کی بنیاد پر ولایت فقیہ کے محور پر بہت سے بحرانوں سے سرخرو ہوکر نکلے ہیں۔
انھوں نے کہا: کوئی بھی دوسرا محور اسلام، ایران کی اساسی قانون (آئین) اور ولایت فقیہ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
.......
/110
26 فروری 2011 - 20:30
News ID: 228535
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیتاللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا: ہم مراجع تقلید کے ترقی پسندانہ اور زمانی کی تقاضوں کے مطابق فتاوای اور مکتب اہل بیت (ع) کی بنیاد پر ولایت فقیہ کے محور پر بہت سے بحرانوں سے سرخرو ہوکر نکلے ہیں چنانچہ کوئی بھی دوسرا محور اسلام، ایران کے اساسی قانون (آئین) اور ولایت فقیہ کا متبادل نہیں ہوسکتا / ایسے معاند افراد اور ٹولوں کے سامنے ـ جن کے مٹھی بھر پیروکار آج بھی موجود ہیں جو تند و تلخ موقف اپناتے ہیں یا نعرے لگاتے ہیں اور نظام اسلامی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور 14 فروری کو تہران میں اس قسم کے اقدامات کا اظہار کیا گیا ـ ہماری ذمہ داری بالکل واضح ہے۔